اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، تنزانیہ کی شیعہ برادری (TIC) کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ حمید جلالہ موکیندنگہ نے ضلع روفیجی کے سرکاری دورے کے دوران صوبہ پوانی کے علاقے ایکویریری میں واقع حسینیہ حضرت زہرا (س) میں منعقدہ رہبرِ شہید کی مجلسِ یاد میں شرکت کی اور خطاب کیا۔
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ رہبرِ شہید آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہای کی تشییع ایک معمول کا واقعہ نہیں تھا بلکہ ایک عظیم درس تھا، جس نے واضح کیا کہ کوئی بھی معاشرہ اتحاد، انصاف، وطن سے محبت اور باہمی احترام کی بنیاد پر مضبوط ہو سکتا ہے۔ انہوں نے مؤمنین پر زور دیا کہ وہ اس عظیم واقعے کے پیغامات پر غور کریں اور انہیں اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔
انہوں نے پہلا سبق شیعوں کے درمیان اتحاد کی اہمیت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر معاشرے کی طاقت اس کے افراد کے باہمی تعاون، یکجہتی اور مشکل و آسان ہر حال میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے میں مضمر ہے۔ ان کے بقول معمولی اختلافات کو تفرقے کا سبب نہیں بننا چاہیے بلکہ اسلام اور امت کے اجتماعی مفاد کو ہر چیز پر مقدم رکھا جانا چاہیے۔
دوسرے سبق کی وضاحت کرتے ہوئے شیخ حمید جلالہ نے کہا کہ یہ واقعہ اس بات کا مظہر تھا کہ مسلکی اختلافات کے باوجود تمام مسلمانوں کو اتحاد و اخوت کے ساتھ رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کے درمیان مشترکات اختلافات سے کہیں زیادہ ہیں، لہٰذا باہمی محبت، احترام اور دین کی تقویت، امن کے فروغ اور معاشرے کی ترقی کے لیے تعاون کو فروغ دینا وقت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے تیسرے سبق کے طور پر مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان باہمی احترام، پرامن بقائے باہمی اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کے مطابق مذہبی اختلافات نفرت یا تصادم کا سبب نہیں بننے چاہئیں بلکہ انہیں باہمی افہام و تفہیم، عدل، امن اور قومی یکجہتی کے فروغ کا ذریعہ بنانا چاہیے۔
چوتھا سبق: وطن سے محبت اور قومی خدمت کا جذبہ
حجۃ الاسلام شیخ حمید جلالہ نے کہا کہ اس تقریب کا چوتھا سبق وطن سے محبت ہے۔ انہوں نے مؤمنین پر زور دیا کہ وہ پورے اخلاص کے ساتھ تنزانیہ سے محبت کریں، دیانت داری کے ساتھ اپنے ملک کی خدمت انجام دیں اور قومی ترقی کے منصوبوں میں بھرپور کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں امن، اتحاد اور ترقی کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرے، کیونکہ کسی بھی ملک کی ترقی اس کے عوام کی محنت اور اجتماعی شرکت سے وابستہ ہوتی ہے۔
پانچواں سبق: مخلص اور دیانت دار ذمہ داران کا احترام
انہوں نے پانچویں سبق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے کو ان ذمہ داران کی قدر کرنی چاہیے جو عدل، امانت داری اور ایثار کے جذبے کے ساتھ عوام اور ملک کی خدمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے خدمت گزار ذمہ داران احترام، قدردانی اور دعاؤں کے مستحق ہیں تاکہ وہ عدل و انصاف کے قیام، اخلاقی اقدار کے فروغ اور عوامی خدمت کا سلسلہ مؤثر انداز میں جاری رکھ سکیں۔
حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ حمید جلالہ موکیندنگہ نے اپنے خطاب کے اختتام پر تمام مؤمنین پر زور دیا کہ وہ ان تعلیمات کو صرف سننے تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار امن، حقیقی اتحاد اور ہمہ جہت ترقی اسی وقت ممکن ہے جب معاشرے کا ہر فرد تقویٰ الٰہی، دوسروں سے محبت اور ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔
تقریب کا اختتام دعا اور اخلاقی و دینی نصیحتوں کے ساتھ ہوا، جن میں مؤمنین کو اہل بیت (علیہم السلام) کی تعلیمات پر مضبوطی سے عمل کرنے، اتحاد کو فروغ دینے اور معاشرے میں امن و ترقی کے قیام کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے کی تلقین کی گئی۔
آپ کا تبصرہ